واقعہ صلیب قرآن و انجیل کی رو سے

واقعہ صلیب

قرآن و انجیل کی رو سے
کیا حضرت مسیح نا صری علیہ السلام صلیب پر فوت ہوگئے تھے ؟ مذہبی دنیا کا یہ ایک بہت بڑا اوراہم مسئلہ ہے ۔ اس مسئلہ پر عیسائی عقائد کی بنیا دہے ۔اس لئے اس کی اہمیت بڑھتی گئی۔یہودی اورعیسائی دونوں مانتے ہیں کہ حضرت مسیح ناصریؑ صلیب پرفوت ہوگئے ۔یہودی تکذیب کے لیے اورعیسائی کفارۃ المسیح کی تصدیق کیلئے ۔ قرآن حکیم اہل کتاب کے اختلافات میں حکم بن کرنازل ہوا۔ اس آسمانی کتاب نے اصل حقیقت سے روشناس کیا اوربتایاکہ یہود حضرت مسیح ؑ کے قتل پرقادرنہیں ہوئے ۔ حضرت مسیح ؑصلیبی موت سے بچائے گئے ۔ ان کی حالت مشابہ موت ہوگئی تھی۔ اس لئے اختلاف ہوا ۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ۔
ترجمہ:’’ نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ انہوں نے اسے صلیب پر لٹکا کر مارا بلکہ ان کے لیے مصلوب کے مشابہ بنا دیا گیا۔‘‘
مَا صَلَبُوْہُ کے یہ معنے نہیں کہ حضرت مسیح ناصری ؑ کے بدن کو زخمی بھی نہیں کیا تھا بلکہ یہ معنے ہیں کہ صلیب پر وہ مرے نہیں۔قرآن مجید میں دوسری جگہ قتل و صلیب کی وضاحت ہے
فرمایا۔اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْ یُصَلَّبُوْا یعنیان میں ایک ایک کو قتل کیا جائے یا صلیب پر لٹکا کر مارا جائے۔
اس جگہ پر وَمَا قَتَلُوْہُ وَ مَا صَلَبُوْہُ کے معنےیہ ہیں کہ اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے صلیب پر مارایعنی عام قتل اور قتل بذریعہ صلیب دونوں کی نفی ہے۔لغت میں ہے الصَّلْبُ ، ھذہ الْقِتْلَۃ المعروفۃ یعنی صلیب کے معنے ایک معروف طریق سے مار دینا ہے ۔
آگے فرمایا۔ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ بلکہ وہ ان کے لئے مشابہ بمصلوب ہو گیا ۔صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب نے زخمی کیا مارا نہیں۔قرآنی بیان بالکل واضح ہےلیکن مرورزمانہ کے باعث ان قرآنی تصریحات کولوگوں نے بھلادیا اورقرونِ اولی ٰ کی ایک عیسائی روایت کی تتبع میں حضرت مسیح کے آسمان پرجانے اور مسیح کی جگہ کسی اور شخص کے صلیب پانے کاعقیدہ خود مسلمان میں راسخ اورپختہ ہوگیا ۔اور وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ کے معنے یہ کیے جانے لگے کہ کوئی شخص مسیح کے مشابہ بنایا گیا(جس نے صلیب پائی)۔ حالا نکہ معنے یہ ہیں کہ وہ یعنی مسیح انکے لیے مشابہ بموت بنایا گیا۔یہ صریح غلطی ایک عیسائی قصہ کو ذہن میں رکھ کر کی گئی ہے، ورنہ الفاظ قرآنی اس کے متحمل نہیں۔ شُبِّہَ کی ضمیر صرف حضرت مسیح کی طرف جا سکتی ہے۔ جن کا ذکر چل رہا ہے اور کسی ایسے شخص کی طرف ہرگز نہیں جا سکتی جس کا ذکر قرآن شریف میں کہیں بھی نہیں جو مسیح کی جگہ قتل و صلیب سے مرا ہو۔
حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے بچائے گئے اس کے اناجیل میں بھی اشارے پائے جاتے ہیں ۔چنانچہ ان شواہدپر تفصیلی روشنی حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اپنی تصانیف میں ڈالی ہے بالخصوص ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ میں ۔تاہم ان میں سے چندنئے پہلو مندرجہ ذیل ہیں:
یونس نبی کا نشان
انجیلِ متی میں ہے کہ بعض فقیہیوں اور فریسیوں نے مسیح سے کہا کہ اے استاد ہم تجھ سے کوئی نشان دیکھنا چاہتے ہیں تو مسیح علیہ السلام نے انہیں جواب دیا:
’’اس زمانہ کے برے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جیسے یوناہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابنِ آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔‘‘
حضرت بانیٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ نے،حضرت مسیح ناصری کے صلیب سے بچنے کے شواہد پر مبنی اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’مسیح ہندوستان میں ‘‘ کا آغاز یونس نبی کے نشان سے کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔
’’متی باب 12آیت 40میں لکھا ہے کہ جیسا کہ یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔ اب ظاہرہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا۔ اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بیہوشی اور غشی تھی ۔اور خدا کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس خدا کے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا ۔‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سورۃ مریم کی تفسیر کرتے ہوئے یونس نبی کے نشان کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں :۔

’’پس مسیح کے لئےبھی یہ نشان اسی صورت میں ہوسکتاہے کہ جب مسیح قبر میں زندہ جائے ،قبر میں زندہ رہے، اور قبر میں سے زندہ نکلے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد نشان کا یہ حصہ آئے گا کہ وہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تبلیغ کرےجو اس وقت نینوہ کے قریب اور ایران اور افغانستان اور کشمیر میں رہتی تھیں ، اپنے مذہب میں داخل کرےاور اس طرح اس مقصد میں کامیاب ہو جو اللہ تعالیٰ نے اس کے سپر د کیا تھا ۔اگر ایسا ہوجائے تو یوناہ نبی سے مسیح کی مماثلت ثابت ہوجاتی ہے اور وہ معجزہ جس کے دکھانے کا انہوں نے وعدہ کیا تھا ۔وہ دنیا پر ظاہر ہوجاتاہے۔‘‘[1]

[1] تفسیر کبیر  از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفة المسیح الثانی   ؓ۔جلد پنجم۔صفحہ :101۔تفسیر سورۃ مریم

مکمل کتاب پڑھنے کے لیے نیچے دئیے گے لنک پر کلک کریں

Bookmark the permalink.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے