بائیبل کی الہامی حیثیت

بائیبل کی الہامی حیثیت
شروع کی چند صدیاں چھوڑ کر اور موجودہ دو صدیاں چھوڑ کر باقی سارے عرصے میں عیسائیوں کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ نیا عہد نامہ لفظاً و معناً الہامی کلام ہے اور تا حال بھی چرچ نے سرکاری طور پر اسی عقیدہ کو اپنایا ہوا ہے۔
شروع میں جب یہ کتابیں لکھی جا رہی تھیں تو لکھنے والوں نے کبھی اپنے ملہم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا سوائے مکاشفہ کی کتاب کے۔اس کے برعکس بعض مصنفین نے کھل کر اسکا اعتراف کیا کہ وہ یہ کتابیں خود اپنی مرضی سے اور لوگوں سے پوچھ کر لکھ رہے ہیں۔
موجودہ دور میں تقریباً سو فیصد عیسائی محققین اس نظریہ کے حامی ہیں کہ بائیبل لفظی طور پر الہامِ الٰہی نہیں ہے بلکہ خد ا کی طرف سے inspirationکے نتیجہ میں یہ سب کتابیں تحریر کی گئیں ہیں۔ الفاظ لکھنے والوں کے اپنے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کے دل میں ایک مضمون ڈالتا تھا اور وہ اپنے الفاظ میں اسکو بیان کرتے تھے۔
ہمارے نزدیک بائیبل کے کئی صحائف جب شروع میں تحریر ہوئے تو یقیناًان میں کلام الٰہی تھا لیکن بعد میں ان میں تحریف ہوتی رہی اور انسانی عنصر کا دخل ان میں راہ پا گیا۔ اب ان کی مثال ایک ایسی ٹوکری سے دی جا سکتی ہے جن میں ہیرے اور پتھر مل جل گئے ہوں پس ہم ایک ماہر جوہری کی طرح ہیروں سے تو فائدہ اٹھاتے ہیں مگر پتھروں کو قبول نہیں کر سکتے۔ اسلئے اسی بائیبل سے ہم آپﷺ کی صداقت کے لئے بیان شدہ پیشگوئیوں سے فائدہ اٹھا کر آنحضور ﷺ کی صداقت ثابت کرتے ہیں ۔
.1عیسائی کہتے ہیں کہ ان میں ایسی پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں جو بعد میں سچی ثابت ہوئیں یہ ان کے کلامِ الٰہی ہونے کا ثبوت ہے۔
جواب : یہ معیار تو درست ہے لیکن بائیبل میں موجود سچی پیشگوئیوں کے ساتھ ساتھ اسمیں ایسی پیشگوئیاں بھی موجود ہیں جو غلط ثابت ہوئیں اسلئے ساری کتاب کو الہامی نہیں کہا جا سکتا۔
۱۔ متی 12/38 : بعض لوگوں نے نشان مانگا تھا مگر حضرت عیسیٰ نے کہا تھا کہ ان کو یوناہ نبی کے سوا اور کوئی نشان نہیں ملے گا جسطرح وہ تین رات دن مچھلی کھا کر پیٹ میں رہا اسی طرح میں بھی تین رات دن زمین کے پیٹ میں رہوں گا۔
پیشگوئی میں بیان کردہ عرصہ مسیح کے حق میں پورا نہیں ہوا کیونکہ آپ کو جمعہ کی شام کو صلیب سے اتارا گیا۔
یوحنا1 19/3 : سبت کا دن تھا یہودیوں نے پیلا طوس سے گزارش کی کہ لاشیں لی جائیں اور جو زندہ ہیں ان کی ہڈیاں توڑ دی جائیں اسی طرح ہوا۔ اور اتوار کی صبح قبر سے آپ کو نکال لیا گیا۔
یہ صرف دو راتیں اور ایک دن بنتا ہے مگر پیشگوئی میں وضاحت کے ساتھ تین دن اور تین راتیں بیان ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو بائیبل میں عبارت کو تبدیل کر کے تین رات دن کر دیا گیا ہے لیکن بات تو پھر بھی وہی رہتی ہے کیونکہ تین رات دن کا بھی زبان کے لحاظ سے مفہوم یہی ہے کہ تین دن تین راتیں نہ کہ دو راتیں اور ایک دن مزید براں کہ انگریزی اور عربی تراجم میں تین دن اور تین رات کے ہی الفاظ ملتے ہیں۔
Cambridgeیونیورسٹی کی شائع شدہ بائیبل جہاں یہ الفاظ ہیں Three nights and three days۔
New International Versionمیں بھی یہی الفاظ ہیں۔ اسی طرح 1938میں قاہرہ سے شائع ہونے والی عربی بائیبل میں ثلاثۃ ایام و ثلاث لیال لکھا ہے۔1985میں شائع ہونے والی عربی بائیبل میں بھی یہی الفاظ ہیں۔
۲۔ متی 24/34 میں مسیح کی آمد ثانی کو ہم عصر نسل سے ظاہر کیا گیا ہے۔لیکن ایسا وقوع میں میں نہیں آیا لہٰذا یہ پیشگوئی بھی غلط نکلی۔
عیسائی کہتے ہیں کہ یہاں نسل سے مراد نسل انسانی ہے نہ کہ زمانے کے لوگ۔
اس صورت میں تو پیشگوئی میں کوئی تعیین بھی باقی نہیں رہتی۔ نیز متی 16/28 کو پڑھنے سے یہ استدلال ممکن نہیں رہتا کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ تم جو یہاں کھڑے ہو تم میں سے بعض ابھی باقی یوں گے۔
۳۔ متی 19/28 میں مسیح نے پیشگوئی کی کہ میرے 12حواری 12تختوں پر بیٹھ کر 12قبیلوں میں انصاف کریں گے۔یہ بھی پوری نہیں ہوئی۔
چونکہ ایک حواری کو بھی تخت یا بادشاہت نصیب نہیں ہوئی بعض کو قتل کر دیا گیا اور بعض مظلومیت کی حالت میں ہی فوت ہو گئے۔ اسپر عیسائی کہتے ہیں کہ یہ تخت دنیا میں نہیں بلکہ جنت میں ملیں گے اگر ایک منٹ کے لیے بھی انکا یہ موقف بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ یہودہ اسکریوتی جو مرتد ہو گیا اسی حالت میں مر گیا۔ (اعمال 1/18 : اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی انتڑیاں نکل پڑیں)۔
یوحنا 6/70 میں مسیح نے اسے شیطان قرار دیا (میں نے تم بارہ کو نہیں چن لیا اور تم میں ایک شیطان ہے)وہ بھی جنتی ہو گا اور تخت کا وارث ہوگا اور یہ بات درست مانی نہیں جا سکتی۔
.2 سوال : قرآن بائیبل کا مصدق ہے اس صورت میں مسلمان بائیبل کی تکذیب کیونکر کر سکتے ہیں۔
۱۔ قرآن مجید نے یہ فرمایا کہ مصدقاً لما معکم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ قرآن مجید موجودہ بائیبل کی کلیۃً تصدیق کرتا ہے کیونکہ یہود و نصاریٰ کے غلط عقائد کی تردید قرآن کریم نے واضح الفاظ میں کی ہے۔
۲۔قرآن مجید بار بار بیان کرتا ہے کہ یہود اور نصاری نے اپنی کتابوں میں تحریف سے کام لیا ۔
۳۔اس صورت میں تصدیق سے مراد در اصل وہ پیشگوئی ہیں جو ایک عظیم الشان نبی کے آنے کی خبر دیتی ہے اور قرآن بتاتا ہے کہ محمد ﷺ کے آنے سے ان پیشگوئیوں کی سچائی ظاہر ہوئی ہے۔ اگر آپﷺ نہ آتے تو ان پیشگوئیوں کی سچائی کا ثبوت ہوتا۔
چاروں انجیلیں کہتی ہیں کہ وہ صلیب پر نہیں مرا اور قرآ ن بھی انکار کرتا ہے وما قتلوہ وما صلبوہ
عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح نے ہمارے گناہ اٹھا لیے مگر قرآن اسکے خلاف ہے لا تزر وازرۃ وزر اخری
.3الہامی کتاب کے لیے ضروری ہے کہ اس سے روحانیت اور قربِ الٰہی میں ترقی ہو۔ جبکہ بائیبل میں تو ایسی باتیں بھی ہیں جو اخلاق سے بھی دور ہیں بجائے اسکے کہ قرب الٰہی میں ترقی دیں۔ مثلاً
(پیدائش باب 19)
(پیدائش باب 38)،(2سموئیل باب 13)،(2سموئیل باب 11)
.4اختلاف/تضاد سے پاک ہونا ضروری ہے
قرآن کریم ان الفاظ کا ذکر یوں کرتا ہے لو کان من عند غیر اللّٰہ لوجدوا فیہ اختلافًا کثیرًا (النساء : 83)
پس جو خدا کاکلام ہو اس میں تضاد اور اختلاف نہیں ہونے چاہئیں لیکن اسکے برعکس بائیبل میں بہت سے اختلافات ہیں چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :
1پرانا عہد نامہ:
۱۔ گنتی 33/38 میں حضرت ہارون ؑ کی وفات کو زحور میں بیان کیا گیا ہے جبکہ استثناء 10/6میں آپکی وفات کا مقام موسیرہ بیان کیا گیا ہے۔
۲۔ 2۔سموئیل 6/23 میں لکھا ہے کہ ساؤل کی بیٹی میکل مرتے دم تک بے اولاد رہی جبکہ اسی کتاب کے اکیسویں باب کی آیت 8میں لکھا ہے کہ میکل کے پانچ بیٹے تھے۔
۳۔ خروج20/4 میں لکھا ہے کہ تو اپنے لئے کوئی مورت نہ بنانا اور خروج 25/18میں عہد کا صدوق بنانے کی ہدایات میں حکم دیا کہ سونے کے ”دو کروبی“ (فرشتے) صندوق کے سر پر بنانا۔
۴۔ 2۔تواریخ 21/20میں یہوسفط کے بیٹے یہورام کے 32سال کی عمر میں بادشاہ بننے کا ذکر ہے نیز لکھا ہے کہ وہ آٹھ سال حکومت کر کے 40سال کی عمر میں مر گیا۔اس سے اگلے باب میں درج ہے کہ یہورام کا چھوٹا بیٹا اسکی وفات کے فورًا بعد بادشاہ بنا اسکی عمر 42برس تھی گویا یہورام کا چھوٹا بیٹا اس سے 2سال بڑا تھا۔
۵۔ یسعیاہ 40/28میں لکھا ہے خدا تھکتا نہیں اور ماندہ نہیں ہوتاجبکہ خروج 13/17میں لکھا ہے کہ خدا نے چھ دن میں کائنات بنائی اور ساتویں دن آرام کیا۔
.2نیا عہدنامہ :
۱۔ متی کے نسب نامہ میں مسیح کو داؤد کے بیٹ سلیمان کی نسل سے بتایا گیا ہے جبکہ لوقا 3/32میں مسیح کو داؤد کے بیٹے ناتن کی نسل سے بیان کیا گیا ہے۔
۲۔ متی کے نسب نامہ میں مسیح سے ابراہیم تک 42پشتیں بیان کی گئی ہیں اور درج 41کی گئی ہیں لیکن لوقا کے نسب نامہ میں یہ تعداد 56ہو جاتی ہے۔
۳۔ متی 2/13میں یہ ذکر ہے کہ مسیح کی پیدائش کے بعد انکے والد یوسف نجار انکو ہیرودیس کے ڈر سے مصر لے گئے اور اسکی وفات تک وہیں رہے وفات کا سن کر یروشلم آئے اور جب یہ علم ہوا کہ ہیرودیس کا بیٹا حاکم بن گیا تو یسوع مسیح کے ساتھ گلیل کے شہر ناصرہ کو چلے گئے جبکہ لوقا باب 2میں ذکر ہے کہ یوسف نجار اور حضرت مریم مردم شماری کے لئے گلیل کے ناصرہ سے یہودیہ کے یروشلم آگئے یہیں پر بیت لحم میں یسوع مسیح کی پیدائش ہوئی اور واپس اپنے گاؤں چلے گئے اور بارہ برس تک وہیں رہے گویا لوقا مصر جانے کا قطعًا ذکر نہیں کرتا۔
۴۔ مرقس 1/12میں لکھا ہے کہ یسوع مسیح نے بپتسمہ کے فورًا بعد 46دن شیطان کے ساتھ جنگلوں میں آزمائش میں گزارے لیکن یوحنا 2/1میں لکھا ہے کہ بپتسمہ پانے کے تیسرے دن یسوع مسیح نے قانای گلیل میں ہونے والی ایک شادی میں شرکت کی۔
۵۔ مرقس 15/25میں لکھا ہے کہ یسوع مسیح کو تیسرے گھنٹے صلیب دی گئی جبکہ یوحنا 19/14میں درج ہے کہ صلیب کا وقت چھٹے گھنٹے کے بعد تھا بعض نسخوں میں مرقس کے حوالے کو بدل کر ”یہردن چڑھا“ کے الفاظ لکھے گئے ہیں لیکن نسخوں میں تیسرے گھنٹے کا ذکر موجود ہے مثلاً Good News بائیبل میں واضح طور پر 9 o’ clockکے الفاظ ہیں۔
3۔نیا عہد نامہ بالمقابل پرانا عہد نامہ :
۱۔ متی 1/11میں لکھا ہے کہ یوسیاہ سے یکونیا پیدا ہوا۔ جبکہ یرمیاہ 28/4اور 1۔تواریخ 3/16میں یہ لکھا ہے کہ کہ یکونیا کا باپ یہو یقیم تھا اور اسکا دادا یوسیا تھا۔
۲۔ متی 1/17میں داؤد سے ابراہیم تک 14پشتیں ہیں جبکہ 1۔تواریخ کے آغاز میں اسی عرصہ میں پشتوں کی تعداد 14کی بجائے 18ہے۔
۳۔متی 2/23میں لکھا ہے وہ ناصرہ میں جا بسا تا کہ نبیوں کی بابت جو کہا گیا تھا کہ وہ ناصری کہلائیگا پورا ہوا اس بیان سے ظاہر کہ کئی انبیاء نے یہ پیشگوئی کی تھی لیکن پورے پرانے عہد نامہ میں کوئی ایک بھی بیان ایسا نہیں ملتا اور اسکے برعکس یوحنا 7/52سے یہ علم ہوتا ہے کہ یہود میں یہ عقیدہ تھا کہ گلیل سے کوئی نبی ظاہر نہیں ہوسکتا۔
۴۔ لوقا 3/36میں ہے سلح بن قینان بن ارفکسر جبکہ پیدائش 10/24میں سلح بن ارفکسر لکھا ہے۔
.5بائیبل کی کتابوں کے مصنفین نے یہ قطعًا یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ یہ کتابیں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر لکھ رہے ہیں نہ ہی حضرت مسیح ؑ نے یا حواریوں نے حضرت مسیح ؑ کی زندگی میں کوئی کتاب تحریر کی نئے عہد نامہ کو الہامی مقام صرف عیسائی حضرات ہی دیتے ہیں گویا صورتحال مدعی سست گواہ چست والی ہے۔ چنانچہ چندایک مثالیں درج ذیل ہیں:
لوقا 1/1 : چونکہ بہتوں نے اس بات پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمیان واقع ہوئیں انہیں ترتیب وار بیان کریں۔
2۔کرنتھیوں 11/17 : جو کچھ میں کہتا ہوں وہ خدا وند کے طور پر نہیں بلکہ گویا بیوقوفی سے اور اس جرأت سے کہتا ہوں جو فخر کرنے میں ہوتی ہے۔
1۔کرنتھیوں 7/25 : کنواریوں کے حق میں میرے پاس خداوند کا کوئی حکم نہیں لیکن دیانتدار ہونے کے لیے جیسا خداوند کی طرف سے مجھ پررحم ہوا اس کے موافق اپنی رائے دیتا ہوں۔
مکابیوں 15/38 :
.6 بائیبل کی اندرونی شہادتوں سے یہ بات واضح ہے کہ بائیبل مسلسل تحریف کا شکار رہی ہے اس لئے بیرونی دلائل کی طرف توجہ نہ
بھی کی جائے تو یہ امر واضح ہے اور خود بائیبل اپنے محرف و مبدل ہونے کے ثبوت کرتی ہے۔چند مثالیں درج ذیل ہیں:
۱۔ استثناء میں حضرت موسی ؑ کا ذکر غائب کے صیغہ میں ہے۔
حضرت موسی ؑ کی وفات کا ذکر ہے۔
حضرت موسی ؑ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کا جانشین بننا بیان ہے یہ بھی ذکر ہے کہ آج تک حضرت موسی ؑ کی قبر کو کوئی نہیں جانتا یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت موسی ؑ کے بعد سے آج تک ویسی شان کا کوئی نبی نہیں گزرا (گویا بعض نبی گزرے تو تھے لیکن موسوی شان کے نہیں تھے) ان امور سے ظاہر ہے کہ یہ باتیں حضرت موسی ؑ نے اپنی زندگی میں ہرگز نہیں لکھیں۔ عیسائیوں کا یہ دعوی کہ تورات حضرت موسی ؑ کی تصنیف ہے بالوضاحت غلط ثابت ہوا بلکہ اس بات کے ساتھ ساتھ کہ تصنیف وفات کے بعد ہوئی ”آج تک“ کے الفاظ یہ بتا رہے ہیں کہ وفات کو بھی لمبا عرصہ گزر چکا تھا کیونکہ وفات کے فورًا بعد قبر کے آثار مٹا نہیں کرتے۔
۲۔ پیدائش 14/14میں لکھا ہے جب ابرام نے سنا کہ اسکا بھائی گرفتار ہوا ہے تو اس نے اپنے318مشاق خانہ کو لیا اور دان تک انکا تعاقب کیا۔ قضاۃ 18/29سے علم ہوتا ہے کہ دان کا نام حضرت موسیٰ کے زمانے میں ”لیث“ تھا اور آپکی وفات کے تقریباً 80سال بعد قضاۃ کے دور میں یہ نام بدل کر دان رکھ دیا پس واضح ہے کہ یا تو حضرت موسیٰ کی طرف منسوب پیدائش کی کتاب قضاۃ کے دور میں تصنیف ہوئی یا دان کا لفظ بعد میں متن میں شامل کیا گیا۔
۳۔ یوشع 24/29اور ایوب 42/17میں یوشع اور ایوب کی وفات کے ذکر سے ظاہر ہے کہ یہ ذکر بعد میں شامل کیا گیا یا لکھنے والا کوئی اور تھا۔
یرمیاہ 8/8میں لکھا ہے ”لکھنے والو ں کے قلم نے بطالت پیدا کر دی ہے“۔
۴۔ اسی طرح یرمیاہ 23/36میں لکھا ہے:”تم نے زندہ خدا رب الافواج ہمارے خدا کے کلام کو بگاڑ ڈالا ہے“
اردو تراجم میں تحریف یا تبدیل کے لفظ کی بجائے بگاڑ کا لفظ لایا گیا ہے لیکن عربی تراجم میں واضح طور پر اذ حرّفتم کلام الالٰہ الحيّ لکھا ہے
۵۔ پولوس بھی اپنے زمانہ کے لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہتا ہے ”ہم ان لوگوں کی مانند نہیں جو خدا کے کلام میں آمیزش کرتے ہیں“ (2۔کرنتھیوں 2/17)
گویا کلام میں آمیزش کرنے والے موجود تھے۔
.7 نئے عہد نامہ کو کینن (canon) کی صورت چوتھی صدی عیسوی میں جا کر ملی۔ 3صدیوں کی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر بشپ اتھناسی آس کی کوششوں سے موجودہ عہد جدید کی کتابوں اور بہت سی اناجیل میں سے چار کو الہامی کتاب کا درجہ دیا گیا۔ اسے اصطلاحاً Canonization of the New Testamentکہتے ہیں۔ کینن کا مطلب ایک معیار اور کسوٹی ہے اور بعد ازاں جو کتابیں اس معیار پر پوری اتریں ان کو بھی کینن کہا جانے لگا۔ مندرجہ بالا امر بائیبل کی الہامی حیثیت کو سخت ضرب پہنچاتا ہے۔ موجودہ محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بائیبل کی کتابیں نسبتاً زیادہ لٹریچر کا کچھ حصہ ہیں۔
۱۔چنانچہ Black’s bible dictionaryلفظ New Testamentکے نیچے لکھتی ہے :
"The New Testament represents a larger body of Christian literature written before the fourth century when after a large controversy the present canon was adopted.”
۲۔ نئے عہد نامہ کا کوئی معین نسخہ موجود نہیں ہے بلکہ متعدد مخطوطات ہیں جو آپس میں اختلاف بھی رکھتے ہیں اور پھر ان میں ارادۃً تبدیلیاں بھی کی جاتی رہیں ہیں چنانچہ انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا لفظ بائیبل کے نیچے لکھتا ہے:
"In the gospels on the other hand the characteristic variation are identical such as the additions or insertions of whole passage.”
۳۔محققین اب یہ بھی مانتے ہیں کہ جن مصنفین کی طرف یہ کتابیں منسوب ہیں درحقیقت انہوں نے انکو نہیں لکھا مثلاً متی کے بارہ میں Peak’s commentaryمیں A.J.Greenنے لکھا ہے:
Our Matthew is not hte work of an Apostle
۴۔ J.Petersan Smithاپنی کتاب How God inspired the Bibleمیں لکھتے ہیں :
بائیبل مقدس کے لکھنے والے کبھی اس امر کے دعوی دار نہیں ہوئے کہ انکی تحریر غلطی سے مبرّ۱ ہے۔ اگر ہم ان کے حق میں اس قسم کے دعوے کرنے لگ جائیں تو اس میں ان کا کچھ قصور نہیں۔۔۔۔سلاطین اور تواریخ کی کتابوں کے مصنف ایک ہی واقعہ کی متوازی تاریخیں لکھتے ہیں جو تفصیلی امور میں ایکدوسرے سے ہر گز اتفاق نہیں کرتیں اور بعض اوقات ایسے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں جنکو باہم تطبیق دینا امکان سے باہر ہے۔ (بائیبل کا الہام صفحہ 136)
۵۔ پادری W.H.T Canonلکھتے ہیں:
یوحنا کے مکاشفہ کے علاوہ ایک بھی کتاب انجیل میں نہیں جسکا یہ دعویٰ ہو کہ اسکے مصنف پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے یا اسکے مصنف کو خدا نے کتاب لکنے کے لئے مامور کیا تھا۔۔۔۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انکے مصنفوں نے یونہی اپنی مرضی سے حسبِ موقع انکو تحریر کیا ہے۔ (الہام : صفحہ57: پنجاب ریلیجنس)
۶۔سکاٹ لینڈ کے ایک پروفیسر لکھتے ہیں: پرانے عہد نامہ کے مصنفوں میں سے ہر ایک اپنے ملہم ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔۔۔پہلی اور دوسری تواریخ،آستر،ایوب اور واعظ کوئی نہیں جانتا کہ ان کتابوں کو کس نے لکھا۔ (تحقیق بائیبل ص 38مترجم پادری طالب الدین)
۷۔ عیسائیوں کی کتاب مسیحی مسائل میں درج ہے:
اس کتاب کی بابت یہ گمان کرنا کہ وحی سے لکھی گئی محض غلط ہے۔ (مسیحی مسائل صفحہ 16)
۸۔ مسیحی رسالہ المائدہ 31دسمبر1959کی اشاعت میں صفحہ 19پر لکھتا ہے: در حقیقت تاریخوں کی صحت تاریخی تفصیلات اور سائنس کے اصولی نظریات سے بائیبل مقدس کی غلطیاں متضاد خیالات اور نامکمل علم پایا جاتا ہے یہ غلطیاں زیادہ اہم مسائل جیسے خدا کا ذہن،خدا کی مرضی وغیرہ میں بھی نظر آتی ہیں۔

Bookmark the permalink.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے