خاندان حضرت میسح علیہ السلام

آلعمر ان
قرآن مجید نے انجیل کی غلطی کی اصلاح کی
اہل کتاب کے لئے روشنی کا مینار

قرآن مجید کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ کتاب خدائے علیم وخبیر کی طرف سے اہل کتاب کے اختلافات کے لئے حکم بن کر آئی ہے ۔ فرمایا :
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ عَلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اَكْثَرَ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۔وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ۔فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ. اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِيْنِ۔
ترجمہ:‘‘یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں بیان کرتاہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں اوریہ کتاب یقینا ًمومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت ہے ۔ تیرا رب اُن کے درمیان اپنے (قرآنی )حکم کے ساتھ (سچا) فیصلہ کرتاہے اوروہ غالب اور بہت بڑے علم والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ پرتوکل کر تویقینا ًایک مدلّل حق پر قائم ہے۔’’
دوسری جگہ فرمایا :
وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔
ترجمہ:اورہم نے تجھ پر اس کتاب کو اسی لئے اتارا ہے کہ جس بات کے متعلق انہوں نے (باہم ) اختلاف (پیدا)کرلیاہے اس کی اصل حقیقت کو (وہ کتاب) ان پر روشن کرے اور(نیز)جو (اس پر)ایمان لائیں ان کے لئے یہ (کتاب)ہدایت اوررحمت (کاموجب ) ہو۔
سورۂ مریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت اور ماموریت کے بیان کے بعد فرمایا :
ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ۔
مفہوماًترجمہ: ’’یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم کا ۔حق وحقیقت پرمبنی بات جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں۔‘‘
مذکورہ آیات کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے جہاں بنیادی امور میں عیسائیت سے اختلاف کیااور صحیح عقائد کی طرف دُنیا کی رہنمائی کی وہاں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی زندگی کے سچے حالات اور حقیقی خدوخال کو نمایاں کرکے دُنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہی میں سے ایک عقیدہ مسیح کے آل داؤد ہو نے کاہے جس کی قرآن نے تردید کی ہے۔قرآن کریم کی تائید میں اب خدا کے فضل سے بہت سے شواہد آ چکے ہیں جن پر زیر نظر مضمون میں بحث کی گئی ہے۔
حضرت مسیح ناصری ؑ آل عمران تھے نہ کہ ابن داؤد
نصاریٰ کا دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نسل ِداؤد سے تعلق رکھتے ہیں۔ متی اور لوقاکی اناجیل کے نسب نامے اس دعویٰ کی تائید میں پیش کئے جاتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ابن مریم تھے اورمریم ؑآل عمر ان سے تعلق رکھتی تھیں۔
عمران لاوی بن اسرائیل کی نسل سے تھے اور حضرت داؤد یہود اہ بن اسرائیل کی اولاد سے تعلق رکھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل میں آل عمران اور آل ِداؤد دو الگ الگ نسلیں اسرائیل کے دوبیٹوں کی اولاد سے تعلق رکھتی ہیں۔

پوری کتاب پڑھیں

Bookmark the permalink.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے